Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ محکمہ قانون مختلف عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کا فیصلہ کے ایم سی کے حق میں کرانے کے لئے موثر کردار ادا کرے -  
     
  06-Nov-2017  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ محکمہ قانون مختلف عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کا فیصلہ کے ایم سی کے حق میں کرانے کے لئے موثر کردار ادا کرے تاکہ شہر میں تجاوزات اور زمینوں پر غیرقانونی قبضے سمیت غذائی اشیاء میں ملاوٹ اور غیر صحت بخش اشیاء کی فروخت جیسی سرگرمیوں کا سدباب کیا جاسکے، محکمہ قانون کے وکلاء تمام کیسز کو سنجیدگی سے لیں، ماضی میں جو ہوتارہا وہ پریکٹس نہیں چاہئے،وکلا کی غفلت سے ادارے نے بہت نقصان اٹھا لیا اب یہ قابل قبول نہیں، اس معاملے میں سختی سے کام لینا ہے، کے ایم سی کے جتنے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان کے متعلق قانونی امور کمیٹی کے ساتھ مستقل مشاورت یقینی بنائی جائے اورکمیٹی جو بھی معلومات طلب کرے اسے فوری فراہم کی جائیں، کے ڈی اے ماسٹر پلان ، ایم ڈی اے اور دیگر محکموں سے متعلقہ معلومات اور دستاویزات کے حصول کے لئے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اور ڈی جی کے ڈی اے کو خط لکھا جائے، محکمے کی بہتری اور اسے درست انداز میں چلانے کے لئے پیش کی جانے والی قانونی امور کمیٹی کی تجاویز پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ قانون کے افسران و وکلاء اور قانونی امور کمیٹی کے ساتھ منعقد ہونے والے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر قانونی امور کمیٹی کے چیئرمین عارف خان ایڈوکیٹ، سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی، چیئرمین اراضیات کمیٹی ارشد حسن، لیگل کمیٹی کے ممبران، مشیر قانون سعید اختر، ڈپٹی لیگل ایڈوائزر قاضی عابد، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ایس ایم شکیب، ڈائریکٹر فنانس محمود بیگ، پینل ایڈوکیٹ ،پروسیکیوٹرز اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی نے اجلاس کے دوران فرداً فرداً تمام وکلاء سے انہیں دیئے گئے کیسز کے متعلق تفصیلات معلوم کیںاور ہدایت کی کہ تمام وکلاء روزانہ کی بنیاد پر زیر سماعت مقدمات کے اسٹیٹس سے سربراہ محکمہ اور قانونی امور کمیٹی کو آگاہ رکھیںتاکہ سپریم کورٹ، ہائیکورٹ ، ڈسٹرکٹ کورٹس اور لیبر کورٹس وسروس ٹربیونلزمیں زیر سماعت کیسز اور ان پر ہونے والی پیشرفت کا علم رہے، انہوں نے ہدایت کی کہ خاص طور پر فوڈ ڈپارٹمنٹ اور اینٹی انکروچمنٹ کے محکمے سے متعلق کیسز پر توجہ دی جائے جہاں سے خطیر ریونیو حاصل کیا جاسکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ جو وکلاء کام نہیں کر رہے اور ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں انہیں فوری طور پر فارغ کردیا جائے اور ان سے گاڑی سمیت دیگر مراعات بھی واپس لے لی جائیں، کسی کو بھی گھر میں بیٹھا کر تنخواہ نہیں دی جاسکتی، انہوں نے کہا کہ آئندہ ہر ڈسٹرکٹ میں کیسز کی سماعت کے لئے کم از کم دو وکیل موجود ہونا چاہئیں، وکلاء کے درمیان اسائنمنٹ کی تقسیم اس طرح کی جائے کہ کسی پر زیادہ بوجھ نہ پڑے، آئندہ کام نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں چلے گا، سربراہ محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پورے اسٹاف سے کام لے اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتے، قانونی امور کمیٹی فیصلہ کرے کہ کس وکیل کو کہاں بھیجنا ہے اور کس کیس کا کیا اسٹیٹس ہے، انہوں نے کہا کہ عدالت میں وکیل کے لئے آوازیں لگ رہی ہوتی ہیں مگر وکیل نہیں پہنچتا اب ایسا نہیں ہونا چاہئے، کیس ٹو کیس کی بنیاد پر جن وکلاء کی خدمات ماضی میں حاصل کی گئیں ان کے اسٹیٹس سے فوری آگاہ کیا جائے اور کمیٹی کو اس کی تفصیلات بتائی جائیں اس معاملے میںاب لیت و لعل سے کام نہیں چلے گا، انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ قانون کے ایم سی کے تمام محکموں کو ان سے متعلق کیسز کے حوالے سے تفصیلات اور معلومات بھیجنے کا پابند بنائے، انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر دی گئی ہدایات پر آئندہ اجلاس بلانے تک عملدرآمد نہ ہوا اور معاملات درست نہ کئے گئے تو غفلت اور لاپرواہی کے ذمہ دار افسران کو فارغ کردیا جائے گا۔فوڈ ڈپارٹمنٹ کے تحت عائد کئے جانے والے جرمانے کی رقم کے ایم سی کے اکائونٹ میں آنا چاہئے جن ڈسٹرکٹس سے رقم نہیں آرہی انہیں فوری خط لکھا جائے۔ اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ میں مشیر قانون سعید اختر نے بتایا کہ محکمہ قانون کا مقصد عدالتوں میں کے ایم سی کے مفادات کا تحفظ کرنا اور کے ایم سی کے مختلف محکموں کو قواعد و ضوابط اور پالیسی کی روشنی میں قانونی رائے فراہم کرنا ہے،انہوں نے مختلف عدالتوں میں زیر التواء 3058 کیسز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سپریم کور ٹ میں تقریباً 25 کیسز ، ہائیکورٹ میں تقریباً2045 کیسز، ڈسٹرکٹ کورٹس میں تقریباً492 کیسز، غذائی ملاوٹ کے تقریباً470 کیسز، سروس ٹریبونلز میں4 کیسز اور اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونلزمیں تقریباً22 کیسز زیر التواء ہیں۔ انہوں نے مختلف عدالتوں میں کے ایم سی کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء اور انہیں سونپے گئے کیسز کی تفصیلات سے اجلاس کو آگاہ کیا اور بتایا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ہائیکورٹ میں تمام 70 مقدمات کے فیصلے کے ایم سی کے حق میں ہوئے،اجلاس کے دوران لیگل کمیٹی ممبر مفتی شمیم نے کہا کہ لیگل ڈپارٹمنٹ میں انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کی ضرور ت ہے جس کے لئے اہل افسران میں سے انتخاب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسٹاف کی حاضری اور دیگر معاملات کے لئے جدید کمپیوٹر سافٹ ویئر سے مدد لی جائے، کمیٹی کے چیئرمین عارف خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ لیگل کمیٹی نے رات دن انتھک محنت کرکے محکمہ قانون کے دفاتر کی منتقلی یقینی بنائی اور اب محکمے کے معاملات کی نگرانی کے ذریعے جو بھی مثبت تجاویز تیار کی جائیں گی انہیں میئر کراچی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اس شعبے کو مضبوط اور موثر بنایا جاسکے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے ہدایت کی کہ محکمہ فوڈ سے متعلق علیحدہ اجلاس طلب کیا جائے کیونکہ فوڈ ڈپارٹمنٹ کی بحالی کے بعد انسپکٹرز کی طرف سے عدالتوں میں کیسز نہ بھیجنا قابل تشویش ہے لہٰذا تمام فوڈ انسپکٹرز اور ڈائریکٹر فوڈ کو بھی اجلاس میں طلب کیا جائے تاکہ پتہ چلے کہ انسپکٹرز فیلڈ میں جا بھی رہے ہیں یا نہیں، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ فوڈ ڈپارٹمنٹ مضبوط ہو اور اس کے ذریعے کے ایم سی کے ریونیو میں اضافہ کیا جاسکے۔  
     
     
 
News Photo Gallery
 
 
 
 
 
 
 
 
 

 
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard