Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر کی زیر صدارت منگل کی دوپہر کے ایم سی بلڈنگ میں سٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں میئر کراچی کی سٹی کونسل کے ایوان میں آمد پر اراکین کونسل نے ان کا پرجوش اور زبردست استقبال کیا-  
     
  31-Oct-2017  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر کی زیر صدارت منگل کی دوپہر کے ایم سی بلڈنگ میں سٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ الیکٹریکل و مکینیکل کے لئے ایمپریسٹ اکائونٹ کی منظوری سے متعلق پیش کی جانے والی ایک قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ،اجلاس کے آغاز پر رکن کونسل حاجی اسماعیل اور ملیر سٹی کے چیئرمین شیر سید کے والد کے انتقال پر دعائے مغفرت کی گئی، قبل ازیں میئر کراچی کی سٹی کونسل کے ایوان میں آمد پر اراکین کونسل نے ان کا پرجوش اور زبردست استقبال کیا، اجلاس ایجنڈے کی تکمیل کے بعد غیر معینہ مدت کے لئے برخاست کردیا گیا۔ بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ سٹی کونسل مضبوط اور متحد ہے ،اراکین کونسل کی بھرپور حمایت میئر کراچی پر اعتماد کا ووٹ ہے، ہماری ناکامی اور کامیابی کا فیصلہ اس وقت ہوتا جب SLGA-2013 اور آئین کی شق 140-A کے تحت ہمیں اختیارات ملے ہوتے، کراچی کے لئے جو بجٹ ہمیں دیا گیا ہے انشاء اللہ اس کا بہترین استعمال کرکے دکھائیں گے جو بھی حالات ہوں ان کا سامنا کروں گا اور کراچی کی عوام نے جو ووٹ دیئے ہیں اس کا پورا حق ادا کروں گا، عدم اعتماد کی قرارداد لانے والے کسی غلط فہمی میں نہ رہیں ہم بھاگنے والے نہیں ہیں، اپوزیشن اراکین سیاسی طور پر نابالغ ہیں انہیں میچور ہونے میں وقت لگے گا، ڈپٹی میئر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی ہمیں ضرورت نہیں، وہ خود ٹی وی پر اپنے استعفیٰ کا عندیہ دے چکے ہیں، اگر انہوں نے استعفیٰ نہ دیا تو قانونی طریقہ اختیار کریں گے، میئر کراچی نے کہا کہ آج معمول کا اجلاس تھا جس کے لئے ایک نکاتی ایجنڈا تھا اور ہمارا کام صرف یہ تھا کہ اس ایجنڈے پر بخوبی عملدرآمد کیا جائے لہٰذا ایجنڈا لایا گیا اور قرارداد کثرت رائے سے منظور ہوئی، انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اجلاس سے قبل اپوزیشن اور ٹریژری دونوں کا ان ہائوس اجلاس ہوتا ہے ہم نے یہ طے کیا تھا کہ پہلے ایجنڈے کی کارروائی مکمل کریں گے اور اس کے بعد اگر کوئی قرارداد آتی ہے تو اسے دیکھیں گے تاہم قانونی طورپر کوئی قرارداد ہمیں موصول نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے اراکین کم از کم متعلقہ قوانین کو دیکھ لیا کریں یا اس کے لئے کوئی قانونی مشیر رکھ لیں، جیسا کہ افواہیں تھی اگر عدم اعتماد کی قرارداد آ بھی جاتی تو ہم اس سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ، سٹی کونسل میں ہماری تعداد کا سب کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان پارلیمانی طریقوں سے نابلد اور صرف اور صرف شور وغل کرکے میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، شاید انہیں علم نہیں کہ اس قسم کی قرارداد لانے کے لئے الگ اجلاس بلایا جاتا ہے جس میں دو تہائی اکثریت ثابت کرنا پڑتی ہے، ڈپٹی میئر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں اب بھی ان کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں،وہ پریشر میں تھے اور انہوں نے اپنے لئے جو فیصلہ بہتر سمجھا وہ کیا ، پاکستان میں ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ، انہوں نے کہا کہ میں چار ماہ تک جیل میں رہا اور میری عدم موجودگی میں وہی تمام صورتحال کا سامنا کرتے رہے اور انہوں نے خود بارہا یہ کہا کہ ان کے ہاتھ پائوں باندھے ہوئے ہیں اور وہ اختیارات سے محروم ہیں، وہ اب بھی ہمارے بھائی ہیں اگر وہ استعفیٰ نہیں دیتے تو اس کے لئے قانون موجود ہے اور اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا، میئر کراچی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت سندھ نے کئی اہم محکمے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں ، میرے پاس دو کروڑ روپے سے زائد لاگت کے منصوبے کے لئے اختیار نہیں جس کی وجہ سے میں فلائی اوور ، پل یا انڈرپاس جیسے بڑے پروجیکٹس شروع نہیں کرسکتا جبکہ پانی و سیوریج ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت تمام محکمے حکومت کے پاس ہیں اگر یہ اختیارات میرے پاس ہوں تو تب آپ میری کارکردگی کے متعلق مجھ سے باز پرس کرسکتے ہیں اس کے باوجود جو بھی محکمے مجھے دستیاب ہیں انہیں فعال اور ٹھیک کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہا ہوں اور بلدیاتی ریونیو میں اضافے کے لئے کوشاں ہوں، انہوں نے کہا کہ ویٹرنری ڈپارٹمنٹ کے حوالے سے مختلف مسائل ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں افسران کا کال پڑا ہے، حکومت نے چار سینئر افسران کو کئی ماہ سے معطل کررکھا تھا جن میں سے ایک کو حال ہی میں بحال کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ مختلف محکموں کے معاملات شفاف بنانے اور غیرقانونی اقدامات و بے قاعدگیوں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں اور بہت سے لوگوں کو معطل کرکے ان کے معاملات اینٹی کرپشن میں بھیج دیئے ہیں، یہ سلسلہ جاری رہے گا اور کے ایم سی کو مستحکم بنیادوں پر چلانے کے لئے جو بھی اقدامات ضروری ہوئے کئے جائیں گے ۔  
     
     
 
News Photo Gallery
 
 
 
 
 
 
 
 
 

 
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard