Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کے لئے مختص پانی پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے،K-4 کے منصوبے سے کراچی کے شہریوں کو نہیں بلکہ دوسروں کو فائدہ پہنچایا جائے گا-  
     
  09-May-2017  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کے لئے مختص پانی پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے،K-4 کے منصوبے سے کراچی کے شہریوں کو نہیں بلکہ دوسروں کو فائدہ پہنچایا جائے گا، کراچی کو روزانہ 1100 ملین گیلن پانی درکار ہے لیکن 420 ملین گیلن پانی بمشکل کراچی کے شہریوں کو مل پاتا ہے اور پانی کی چوری کے باعث کراچی میں پانی کا بحران پیدا ہورہا ہے، میئرکراچی نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں اور کراچی کے لئے پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں، ادارہ فراہمی و نکاسی آب کو جو حکومت سندھ کے ماتحت ہے انہیں واضح احکامات جاری کریں کہ کراچی کے لئے مختص پانی کی چوری کو روکا جائے اور کراچی کے شہریوں کا حق انہیں دیا جائے،میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کو جو420 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے وہ بغیر ٹریٹمنٹ شہریوں تک پہنچتا ہے جو ان کی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے کینجھر جھیل سے 585 ملین گیلن پانی کراچی کے لئے دیا جاتا ہے جس میں سے 70 ملین گیلن پانی زراعت کے لئے چوری کرلیا جاتا ہے جبکہ دھابیجی میں لگی ہوئی مشینوں کی استعداد اسے مزید کم کردیتی ہے بلک اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کے ذریعے واٹر بورڈ کے افسران پانی چوری کرکے فروخت کرتے ہیں اس طرح کراچی کے شہریوں کو روزانہ 420 ملین گیلن پانی مل پاتا ہے جو شہریوں کے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ جو پانی شہر کے مختلف علاقوں تک پہنچتا ہے اس میں سے 30 فیصد پانی لائنوں میں رسائو کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے ، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کو ملنے والا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے شہر تک پہنچایا جا رہا ہے ، 420 ملین گیلن پانی میں سے 50 ملین گیلن پپری پلانٹ، 100 ملین گیلن نارتھ ایسٹ کراچی K-2 فلٹر پلانٹ اور 80 ملین گیلن حب فلٹر پلانٹ پر صاف کیا جا رہا ہے ، 4 فلٹر پلانٹ جو کہ گھارو، ہل ،پپری، NEK جن کی استعداد 200 ملین گیلن کے قریب ہے مینٹی نینس نہ ہونے کی وجہ سے صاف پانی فراہم کرنے سے قاصر ہیں جس کی بنیادی وجہ ان پلانٹس کی مینٹی نینس اور ترقیاتی کام نہ ہونا ہے جس کے باعث کراچی کے شہری صاف اور صحت بخش پانی کی سپلائی سے محروم ہیں، کینجھر جھیل سے کراچی کو فراہم کئے جانے والا پانی زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے جو انتہائی تشویش کی بات ہے، میئرکراچی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ کراچی کے شہری پانی کے لئے ترس رہے ہیں اور کراچی کے لئے مختص 70 ملین گیلن پانی دھابیجی کی نہروں اور کنڈیوٹ سے چوری کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ شہر کو پانی فراہم کرنے والی کنڈیوٹ کینال اور سائیفن پر 100 سے زائد غیرقانونی کنکشن لگا کر پانی چوری کیا جارہا ہے یہ پانی دھابیجی کے گائوں اور گوٹھوں ، فارم ہائوسز، واٹر پارکس اور کمرشل یونٹوں کو فراہم کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ کراچی کو جو پانی دستیاب ہے اس پر ٹینکر مافیا کا راج ہے اور واٹر بورڈ کے افسران کی ملی بھگت سے نہ صرف پانی چوری کیا جاتا ہے بلکہ کمرشل اداروں کو فروخت کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کو سپلائی کیا جانے والا پانی شہریوں کے لئے نقصان دہ ہے اور جن ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ذریعے یہ پانی صاف کیا جاتا ہے وہ مکمل طور پر بوسیدہ ہوچکے ہیں اور اپنی مقررہ معیاد بھی مکمل کرچکے ہیں یہ ٹریٹمنٹ پلانٹ 20 سے 30 سال پرانے ہیں جسے تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے سی او ڈی اور حب فلٹر پلانٹس کو کلورین کی فراہمی بند ہے جس کے باعث آلودہ پانی شہریوں تک پہنچ رہا ہے، میئرکراچی نے کہا کہ ادارہ فراہمی و نکاسی آب کے اجلاسوں میں افسران ایک دوسرے پر پانی کی چوری کے الزامات لگا ئے ہیں، میئرکراچی نے کہا کہ ہم کراچی کے پانی پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے اور K-4 کے منصوبوں سے اگر ناجائز کنکشن فراہم کئے گئے تو اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے گی، انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کے ٹیکسوں سے منصوبے مکمل کئے جاتے ہیں اور پھر کراچی کے شہریوں کو ہی ان کے ثمرات سے محروم کردیا جاتا ہے، کراچی کے مضافاتی علاقوں میں لوگوں کو پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں اور کراچی کے لئے مختص پانی کی لائنوں سے وڈیرے اور جاگیردار اپنی زمینوں اور محلات کو سیراب کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناانصافیاں بہت ہوچکی ہیں، ادارہ فراہمی و نکاسی آب اپنا قبلہ درست کرے اور کراچی میں پانی کی قلت کو دور کرکے اس مسئلے سے شہریوں کو نجات دلائی جائے۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard